العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّ أَبَا صَالِحٍ الزَّيَّاتَ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ، وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ. فَقُلْتُ لَهُ فَإِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ لاَ يَقُولُهُ. فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ سَأَلْتُهُ فَقُلْتُ سَمِعْتَهُ مِنَ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم، أَوْ وَجَدْتَهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ قَالَ كُلُّ ذَلِكَ لاَ أَقُولُ، وَأَنْتُمْ أَعْلَمُ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنِّي، وَلَكِنَّنِي أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ رِبًا إِلاَّ فِي النَّسِيئَةِ ".
الترجمة الإنجليزية
It is narrated from Hadrat Abu Sa'id al-Khudri (may Allah be well pleased with him) who states: Dinar for Dinar, and Dirham for Dirham (i.e., they must be equal). (Abu Salih al-Zayyat says:) I said to him: Hadrat Ibn Abbas (may Allah be well pleased with them both) does not say this. Hadrat Abu Sa'id (may Allah be well pleased with him) replied: I asked him (Hadrat Ibn Abbas) whether he had heard this from the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) or found it in the Book of Allah. He replied: I do not claim either of those, and you know the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) better than I do. However, Hadrat Usama (bin Zaid) (may Allah be well pleased with them both) informed me that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) declared: There is no usury except in credit transactions (Nasi'ah).
الترجمة الأردية
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: دینار بدلے دینار، اور درہم بدلے درہم (یعنی برابر برابر ہونا چاہیے)۔ (ابو صالح زیات فرماتے ہیں:) میں نے ان سے عرض کیا: حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما تو ایسا نہیں فرماتے۔ حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں نے ان سے پوچھا تھا کہ کیا آپ نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے یا کتاب اللہ میں پائی ہے؟ انہوں نے فرمایا: میں ان میں سے کچھ بھی نہیں کہتا، اور آپ لوگ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم (کی احادیث) کو مجھ سے بہتر جانتے ہیں۔ لیکن مجھے حضرت اسامہ (بن زید) رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سود صرف ادھار (نسیئہ) میں ہے۔
