العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ عَمْرٌو كَانَ هَا هُنَا رَجُلٌ اسْمُهُ نَوَّاسٌ، وَكَانَتْ عِنْدَهُ إِبِلٌ هِيمٌ، فَذَهَبَ ابْنُ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ فَاشْتَرَى تِلْكَ الإِبِلَ مِنْ شَرِيكٍ لَهُ، فَجَاءَ إِلَيْهِ شَرِيكُهُ فَقَالَ بِعْنَا تِلْكَ الإِبِلَ. فَقَالَ مِمَّنْ بِعْتَهَا قَالَ مِنْ شَيْخٍ، كَذَا وَكَذَا. فَقَالَ وَيْحَكَ ذَاكَ ـ وَاللَّهِ ـ ابْنُ عُمَرَ. فَجَاءَهُ فَقَالَ إِنَّ شَرِيكِي بَاعَكَ إِبِلاً هِيمًا، وَلَمْ يَعْرِفْكَ. قَالَ فَاسْتَقْهَا. قَالَ فَلَمَّا ذَهَبَ يَسْتَاقُهَا فَقَالَ دَعْهَا، رَضِينَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ عَدْوَى. سَمِعَ سُفْيَانُ عَمْرًا.
الترجمة الإنجليزية
It is narrated from Amr bin Dinar who states: There was a man here in Makkah named Nawwas who had camels suffering from excessive thirst. Hadrat Abdullah bin Umar (may Allah be well pleased with them both) went and purchased those camels from his partner. The partner came and said: We have sold those camels. He asked: To whom? The partner said: To an elderly man who was such and such. He said: Woe to you! By Allah, that was Hadrat Ibn Umar! So he came to him and submitted: My partner sold you diseased camels and he did not recognize you. Hadrat Ibn Umar (may Allah be well pleased with them both) said: Take them back. But when he went to take them back, he said: Leave them; we are content with the decree of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) that there is no contagion.
الترجمة الأردية
حضرت عمرو بن دینار سے روایت ہے، فرماتے ہیں: مکہ مکرمہ میں ایک شخص نوّاس نامی تھا، اس کے پاس بیمار اونٹ تھے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما تشریف لے گئے اور نواس کے شریک سے وہ اونٹ خرید لیے۔ شریک آیا تو اس نے کہا: ہم نے وہ اونٹ بیچ دیے۔ اس نے پوچھا: کسے بیچے؟ شریک نے کہا: ایک بوڑھے بزرگ کو جو ایسے ایسے تھے۔ اس نے کہا: افسوس! واللہ وہ تو حضرت ابن عمر تھے۔ چنانچہ وہ ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: میرے شریک نے آپ کو بیمار اونٹ بیچ دیے ہیں اور اس نے آپ کو پہچانا نہیں تھا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا: انہیں واپس لے جاؤ۔ جب وہ واپس لے جانے لگا تو فرمایا: رہنے دو، ہم رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے فیصلے پر راضی ہیں کہ (بیماری میں) چھوت نہیں ہوتی۔
