العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ امْرَأَةً، مِنْ جُهَيْنَةَ جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ إِنَّ أُمِّي نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ، فَلَمْ تَحُجَّ حَتَّى مَاتَتْ أَفَأَحُجُّ عَنْهَا قَالَ " نَعَمْ. حُجِّي عَنْهَا، أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكِ دَيْنٌ أَكُنْتِ قَاضِيَةً اقْضُوا اللَّهَ، فَاللَّهُ أَحَقُّ بِالْوَفَاءِ ".
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Ibn Abbas (may Allah be well pleased with them both) narrates that a woman from the tribe of Juhainah came to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and submitted: 'My mother had vowed to perform Hajj but she could not perform it before she passed away. May I perform Hajj on her behalf?' He (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Yes, perform Hajj on her behalf. Tell me, had there been a debt upon your mother, would you not have paid it? Pay Allah's debt, for Allah has the most right that His dues be fulfilled.'
الترجمة الأردية
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ قبیلہ جہینہ کی ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: میری والدہ نے حج کی منت مانی تھی لیکن وہ حج نہ کر سکیں اور ان کا انتقال ہو گیا، تو کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہاں، ان کی طرف سے حج کرو۔ بتاؤ اگر تمہاری ماں پر قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا نہ کرتیں؟ اللہ تعالیٰ کا قرض ادا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کا سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اس کا حق پورا کیا جائے۔
