العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاعْتَمَرْنَا مَعَهُ فَلَمَّا دَخَلَ مَكَّةَ طَافَ وَطُفْنَا مَعَهُ، وَأَتَى الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ وَأَتَيْنَاهَا مَعَهُ، وَكُنَّا نَسْتُرُهُ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ أَنْ يَرْمِيَهُ أَحَدٌ. فَقَالَ لَهُ صَاحِبٌ لِي أَكَانَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ قَالَ لاَ. قَالَ فَحَدِّثْنَا مَا، قَالَ لِخَدِيجَةَ. قَالَ " بَشِّرُوا خَدِيجَةَ بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ لاَ صَخَبَ فِيهِ وَلاَ نَصَبَ ".
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Abdullah bin Abu Awfa (may Allah be well pleased with him) narrates: 'The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) performed Umrah and we performed Umrah along with him. When he entered Makkah, he performed Tawaf and we performed Tawaf with him. He went to Safa and Marwah and we went there with him. We were shielding him from the people of Makkah lest anyone should strike him with an arrow.' A companion of mine asked him: 'Did the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) enter the Ka'bah (on that occasion)?' He replied: 'No.' He asked: 'Then tell us what the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated about Umm al-Mu'minin Hadrat Khadijat al-Kubra (may Allah be well pleased with her).' He said: 'He (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "Give Hadrat Khadijah the glad tidings of a palace in Paradise made of pearls, in which there shall be neither noise nor any hardship."'
الترجمة الأردية
حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے عمرہ ادا فرمایا اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ عمرہ کیا۔ جب آپ مکہ میں داخل ہوئے تو طواف فرمایا اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ طواف کیا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم صفا اور مروہ تشریف لے گئے اور ہم بھی آپ کے ساتھ وہاں گئے۔ ہم آپ کو اہل مکہ سے بچاتے تھے کہ کہیں کوئی آپ پر تیر نہ مارے۔ میرے ایک ساتھی نے ان سے دریافت کیا: کیا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اس موقع پر کعبہ کے اندر تشریف لے گئے تھے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں۔ ساتھی نے کہا: تو ہمیں بتایئے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اُمّ المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بارے میں کیا ارشاد فرمایا؟ انہوں نے فرمایا: آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: خدیجہ کو بشارت دو جنت میں موتیوں کے ایک محل کی جس میں نہ کوئی شور ہو گا اور نہ کوئی تکلیف۔
