العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ مَا تَرَكْتُ اسْتِلاَمَ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ فِي شِدَّةٍ وَلاَ رَخَاءٍ، مُنْذُ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَسْتَلِمُهُمَا. قُلْتُ لِنَافِعٍ أَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَمْشِي بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ قَالَ إِنَّمَا كَانَ يَمْشِي لِيَكُونَ أَيْسَرَ لاِسْتِلاَمِهِ.
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Nafi' narrated that Hadrat Ibn Umar (may Allah be well pleased with them both) stated, 'Since I saw the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) touching these two Yemeni Corners, I have never ceased touching them in times of ease or hardship.' I asked Nafi', 'Did Hadrat Ibn Umar (may Allah be well pleased with them both) walk normally between the two Corners?' He replied, 'He walked normally (between them) so that it would be easier for him to touch the Black Stone.'
الترجمة الأردية
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ان سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ عمری نے، ان سے نافع نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو ان دونوں یمانی رکنوں کا استلام کرتے ہوئے دیکھا ہے میں نے بھی اس کے چومنے کو خواہ سخت حالات ہوں یا نرم کبھی نہیں چھوڑا۔ میں نے نافع سے پوچھا کہ کیا حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما ان دونوں یمنی رکنوں کے درمیان معمول کے مطابق چلتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ آپ معمول کے مطابق اس لیے چلتے تھے تاکہ حجرِ اسود کو چھونے میں آسانی رہے۔
