العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، قَالَ قَدِمْتُ مُتَمَتِّعًا مَكَّةَ بِعُمْرَةٍ فَدَخَلْنَا قَبْلَ التَّرْوِيَةِ بِثَلاَثَةِ أَيَّامٍ، فَقَالَ لِي أُنَاسٌ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ تَصِيرُ الآنَ حَجَّتُكَ مَكِّيَّةً. فَدَخَلْتُ عَلَى عَطَاءٍ أَسْتَفْتِيهِ فَقَالَ حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّهُ حَجَّ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ سَاقَ الْبُدْنَ مَعَهُ، وَقَدْ أَهَلُّوا بِالْحَجِّ مُفْرَدًا، فَقَالَ لَهُمْ " أَحِلُّوا مِنْ إِحْرَامِكُمْ بِطَوَافِ الْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَقَصِّرُوا ثُمَّ أَقِيمُوا حَلاَلاً، حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ فَأَهِلُّوا بِالْحَجِّ، وَاجْعَلُوا الَّتِي قَدِمْتُمْ بِهَا مُتْعَةً ". فَقَالُوا كَيْفَ نَجْعَلُهَا مُتْعَةً وَقَدْ سَمَّيْنَا الْحَجَّ فَقَالَ " افْعَلُوا مَا أَمَرْتُكُمْ، فَلَوْلاَ أَنِّي سُقْتُ الْهَدْىَ لَفَعَلْتُ مِثْلَ الَّذِي أَمَرْتُكُمْ، وَلَكِنْ لاَ يَحِلُّ مِنِّي حَرَامٌ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْىُ مَحِلَّهُ ". فَفَعَلُوا. قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ أَبُو شِهَابٍ لَيْسَ لَهُ مُسْنَدٌ إِلَّا هَذَا
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Abu Shihab that he said: I came to Makkah for Hajj al-Tamattu' having assumed Ihram for Umra, and arrived three days before the Day of Tarwiyah (8th Dhul Hijjah). Some people of Makkah told me, 'Your Hajj will now be like that of the people of Makkah (i.e. you will lose the merit of Tamattu').' I went to Ata' to seek his ruling. He said: Hadrat Jabir bin Abdullah (may Allah be well pleased with them both) narrated to me that he performed Hajj with the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) when he brought the sacrificial camels with him (the Farewell Pilgrimage). The Companions had assumed Ihram for Hajj only (Ifrad). The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated, 'End your Ihram by performing Tawaf of the Ka'bah and Sa'i between Safa and Marwa, then trim your hair and remain in a state of Ihram-free until the Day of Tarwiyah, then assume Ihram for Hajj and make your original intention into Tamattu'.' They submitted, 'How can we make it Tamattu' when we have already declared our intention for Hajj?' He (blessings and peace of Allah be upon him) stated, 'Do what I have commanded you. Had I not brought the sacrificial animal with me, I would have done the same as I am ordering you. But I cannot be free from any restriction of Ihram until the sacrifice reaches its place.' So they complied. Abu Hadrat Abdullah (Imam Bukhari, upon him be mercy) said that Abu Shihab has no other Musnad hadith except this one.
الترجمة الأردية
ہم سے حضرت ابونعیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوشہاب نے بیان کیا کہ میں حجِ تمتع کی نیت سے عمرہ کا احرام باندھ کر مکہ مکرمہ پہنچا، یومِ ترویہ سے تین دن پہلے۔ اہلِ مکہ کے بعض لوگوں نے مجھ سے کہا: اب تمہارا حج مکّی ہو جائے گا (یعنی تمتع کی فضیلت نہ رہے گی)۔ میں عطاء بن ابی رباح کے پاس گیا ان سے فتویٰ پوچھنے۔ انہوں نے فرمایا: مجھ سے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کیا جب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اپنے ساتھ قربانی کے اونٹ لائے تھے (یعنی حجۃ الوداع)۔ صحابہ نے صرف حج مفرد کا احرام باندھا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے ارشاد فرمایا: (عمرہ کا احرام باندھ لو) بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کر کے حلال ہو جاؤ اور بال ترشوا لو۔ یومِ ترویہ تک حلال رہو، پھر حج کا احرام باندھو اور اپنے پہلے احرام (حج مفرد) کو تمتع بنا لو۔ صحابہ نے عرض کیا: ہم اسے تمتع کیسے بنائیں جب کہ ہم نے حج کی نیت کر لی ہے؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو میں تمہیں حکم دے رہا ہوں وہ کرو۔ اگر میرے ساتھ قربانی کا جانور نہ ہوتا تو میں بھی اسی طرح کرتا جس طرح تمہیں حکم دے رہا ہوں، لیکن جب تک قربانی اپنی جگہ نہ پہنچ جائے مجھ سے احرام کی کوئی پابندی دور نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ صحابہ نے ایسا ہی کیا۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) نے فرمایا کہ ابوشہاب کی اس ایک حدیث کے سوا کوئی اور مسند حدیث مروی نہیں۔
