العربية (الأصل)
حَدَّثنا أحمد بن الفرج الحمصي قَال حَدَّثنا أيوب بن سُوَيْد قَال حَدَّثنا يُونُس عَن الزُّهْرِيّ قال أخبرني سَعِيد بن الْمُسَيَّب وَأبُو سلمة بن عَبد الرحمن عَن أبي هُرَيرة قال إذا أمن القارىء فأمنوا فإن الإمام يقول آمين وتقول الملائكة آمين فمن وافق تأمينه تأمين الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه وتقول الملائكة آمين فمن وافق تأمينه تأمين الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Abu Darda (may Allah be well pleased with him) narrated that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: «Whoever treads a path seeking knowledge, Allah will make easy for him a path to Paradise. The angels lower their wings in approval for the seeker of knowledge. All that is in the heavens and the earth, even the fish in the depths of the water, ask forgiveness for the scholar. The superiority of the scholar over the worshipper is like the superiority of the full moon over the rest of the stars. The scholars are the heirs of the Prophets. The Prophets did not leave behind dinars or dirhams, but they left behind knowledge. Whoever acquires it has acquired an abundant share.»
الترجمة الأردية
حضرت ابودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «جو علم کی طلب میں کوئی راستہ چلتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے۔ فرشتے طالب علم کی رضامندی میں اپنے پر بچھا دیتے ہیں۔ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے، یہاں تک کہ پانی کی گہرائیوں میں مچھلی بھی، عالم کے لیے مغفرت کی دعا کرتی ہے۔ عابد پر عالم کی فضیلت ایسی ہے جیسے باقی ستاروں پر پورے چاند کی فضیلت۔ علماء انبیاء کے وارث ہیں۔ انبیاء نے دینار اور درہم وراثت میں نہیں چھوڑے، بلکہ انہوں نے علم چھوڑا۔ جس نے اسے حاصل کیا اس نے بہت بڑا حصہ پایا۔»
