العربية (الأصل)
حَدَّثنا عبدة بن عبد الله أخبرنا يزيد بن هارون أخبرنا ديلم بن غزوان حَدَّثنا ثَابِتٌ عَن أَنَسٍ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيه وَسَلَّم رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ إِلَى رَجُلٍ مِنْ عُظَمَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ يَدْعُوهُ إِلَى اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَقَالَ أَيْش رَبُّكَ الَّذِي تَدْعُو إِلَيْهِ مِنْ نُحَاسٍ هُوَ مِنْ حَدِيدٍ هُوَ مِنْ فِضَّةٍ هُوَ مِنْ ذَهَبٍ هُوَ فَأَتَى النَّبِيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيه وَسَلَّم فَأَخْبَرَهُ فَأَعَادَهُ النَّبِيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيه وَسَلَّم الثَّانِيَةَ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ فَأَتَى النَّبِيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيه وَسَلَّم فَأَخْبَرَهُ فَأَرْسَلَهُ إِلَيْهِ الثَّالِثة فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ فَأَتَى النَّبِيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيه وَسَلَّم فَأَخْبَرَهُ فَأَرْسَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَيْهِ صَاعِقَةً فَأَحْرَقَتْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيه وَسَلَّم إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَدْ أَرْسَلَ عَلَى صَاحِبِكَ صَاعِقَةً فَأَحْرَقَتْهُ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ وَيُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَيُصِيبُ بِهَا مَنْ يَشَاءُ وهم يجدلون في الله وهُو شديد المحال دَيْلَم صَالِح بَصْرِيٌّ
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Anas (may Allah be well pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: «When Adam disobeyed, he said: O my Lord, I ask You by the right of Muhammad that You forgive me. He said: O Adam, how did you know Muhammad when I have not yet created him? He said: O my Lord, when You created me with Your Hand and breathed into me of Your spirit, I raised my head and saw written on the legs of the Throne: There is no deity except Allah, Muhammad is the Messenger of Allah. So I knew that You would not attach to Your Name except the most beloved of creation to You. He said: You have spoken the truth, O Adam. He is indeed the most beloved of creation to Me. Call upon Me by his right, for I have forgiven you. And were it not for Muhammad, I would not have created you.»
الترجمة الأردية
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «جب آدم علیہ السلام نے نافرمانی کی تو کہا: اے میرے رب! میں تجھ سے محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے حق کا واسطہ دے کر مانگتا ہوں کہ تو مجھے معاف فرما۔ اللہ نے فرمایا: اے آدم! تو نے محمد کو کیسے جانا جبکہ میں نے ابھی انہیں پیدا نہیں کیا؟ آدم نے کہا: اے میرے رب! جب تو نے مجھے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور اپنی روح پھونکی تو میں نے سر اٹھایا اور عرش کی ٹانگوں پر لکھا دیکھا: لا إلہ إلا اللہ محمد رسول اللہ۔ تو میں نے جانا کہ تو اپنے نام کے ساتھ اپنی مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب کو ہی جوڑتا ہے۔ اللہ نے فرمایا: تو نے سچ کہا اے آدم! بے شک وہ میری مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب ہیں۔ ان کے حق کا واسطہ دے کر مجھ سے مانگ، میں نے تجھے معاف کر دیا۔ اور اگر محمد نہ ہوتے تو میں تجھے پیدا نہ کرتا۔»
