العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُبَارَكِ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ ﷺ فَجَاءَ رَجُلٌ فَسَارَّهُ فَقَالَ «اقْتُلُوهُ» ثُمَّ قَالَ «أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؟» قَالَ نَعَمْ وَلَكِنَّهُ يَقُولُهَا تَعَوُّذًا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ «لَا تَقْتُلُوهُ فَإِنِّي إِنَّمَا أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ فَإِذَا قَالُوا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ» قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدِيثُ الْأَسْوَدِ بْنِ عَامِرٍ هَذَا خَطَأٌ وَالصَّوَابُ الَّذِي بَعْدَهُ 3428 أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ قَالَ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ عَنْ رَجُلٍ حَدَّثَهُ قَالَ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ ﷺ وَنَحْنُ فِي قُبَّةٍ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ وَقَالَ فِيهِ «إِنَّهُ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» نَحْوَهُ [415] 3429 أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْيَنَ قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ قَالَ حَدَّثَنَا سِمَاكٌ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ قَالَ سَمِعْتُ أَوْسًا يَقُولُ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ ﷺ وَنَحْنُ فِي قُبَّةٍ وَسَاقَ الْحَدِيثَ
الترجمة الإنجليزية
Muhammad ibn al-Muthanna narrated to us, he said: Abu Dawud narrated to us from Shu'bah from Sa'd ibn Ibrahim from Abd ar-Rahman ibn Hurmuz from Hadrat Abu Hurairah from Hadrat Abu Bakr (may Allah be well pleased with them).
الترجمة الأردية
محمد بن معمر نے ہمیں بیان کیا، انہوں نے کہا: عفان نے ہمیں بیان کیا، انہوں نے کہا: ہمام نے ہمیں بیان کیا، ثابت سے، انس رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا: ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: چلو ہم ام ایمن کی زیارت کریں جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی زیارت کیا کرتے تھے۔ پس وہ دونوں ان کے پاس گئے اور جب وہ ان کے پاس پہنچے تو وہ رونے لگیں۔ انہوں نے کہا: تم کیوں روتی ہو؟ جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بہتر ہے۔ انہوں نے کہا: میں اس لیے نہیں روتی کہ مجھے معلوم نہیں کہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بہتر ہے، لیکن میں اس لیے روتی ہوں کہ آسمان سے وحی کا آنا بند ہو گیا۔ پس اس نے ان دونوں کو بھی رلا دیا، پس وہ تینوں روتے رہے۔
