العربية (الأصل)
69/93 عن النعمان بن بشير، أن أباه انطلق به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم يحمله فقال: يا رسول الله! إني أشهدك أنى قد نحلت النعمان كذا وكذا، فقال:"أكل ولدك نحلت؟". قال: لا. قال:"فأشهد غيرى". ثم قال:"أليس يسرك أن يكونوا في البر سواء". قال: بلى. قال:"فلا إذاً". قال أبو عبد الله البخاري: ليس الشهادة من النبي صلى الله عليه وسلم رخصة.
الترجمة الإنجليزية
Al-Nu'man ibn Bashir reported that his father took him to the Messenger of Allah, peace be upon him, carrying him, and said: 'O Messenger of Allah, I bear witness before you that I have given al-Nu'man such-and-such.' He said, 'Have you given all your children the same?' He said, 'No.' He said, 'Then get someone else to witness this.' Then he said, 'Would you not like them all to be equally dutiful to you?' He said, 'Indeed.' He said, 'Then do not do this.' Abu Abdullah al-Bukhari said: The Prophet's testimony is not a permission.
الترجمة الأردية
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا کہ ان کے والد انہیں اٹھا کر رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اور (ان کے والد نے رسولصلی اللہ علیہ وسلمسے) عرض کیا، یا رسول اﷲ! میں آپ کو گواہ بنانا چاہتا ہوں کہ میں نے نعمان کو فلاں فلاں چیزیں دے دیں۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”کیا تم نے اپنے سارے بچوں کو یہ تحفہ دیا ہے“، عرض کیا: نہیں۔ فرمایا:”تو پھر کسی اور کو گواہ بناؤ۔“اس کے بعد آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”کیا تمہیں یہ پسند نہیں کہ تمہارے سارے بچے تمہارے ساتھ حسن سلوک کرنے میں برابر ہوں۔“عرض کیا کیوں نہیں، فرمایا:”تو پھر ایسا نہ کرو۔“ابوعبداللہ بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں: نبیصلی اللہ علیہ وسلمکا گواہی دینا اجازت کے قائم مقام نہیں ہو گا۔[صحيح الادب المفرد/حدیث: 69]
