العربية (الأصل)
535/691 عن أبي أيوب الأنصاري قال: قال رجل عند النبي صلى الله عليه وسلم الحمد لله حمداً كثيراً طيباً مباركاً فيه. فقال النبي صلى الله عليه وسلم:"من صاحب الكلمة؟". فسكت، ورأى أنه هجم من النبي صلى الله عليه وسلم على شيء كرهه. فقال:"من هو؟ فلم يقل إلا صواباً". فقال رجل: أنا؛ أرجو بها الخير. قال:"والذي نفسي بيده، رأيت ثلاثة عشر ملكاً يبتدرون أيهم يرفعها إلى الله عز وجل".
الترجمة الإنجليزية
Abu Ayyub al-Ansari reported: A man said in the presence of the Prophet (peace be upon him): 'All praise is due to Allah — abundant, pure, and blessed praise.' The Prophet (peace be upon him) said: 'Who said those words?' The man was silent, thinking he had said something the Prophet disliked. He said: 'Who is it? He said nothing but what is correct.' The man said: I said it, hoping for good. He said: 'By the One in whose hand is my soul, I saw thirteen angels racing to see who would take it up to Allah, the Mighty and Majestic.'
الترجمة الأردية
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: نبیصلی اللہ علیہ وسلمکے سامنے ایک شخص نے کہا:«الحمد لله حمداً كثيراً طيباً مباركاً فيه»”تمام قسم کی حمد اللہ کے لیے ہے بہت زیادہ حمد پاکیزہ جس میں برکت کی گئی ہے۔“تو نبیصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”یہ کہنے والا کون ہے؟“اس پر وہ شخص چپ ہو گیا۔ اس نے سمجھا کہ اس نے نبیصلی اللہ علیہ وسلمکے سامنے کوئی ایسی بات کہہ ڈالی ہے جو آپ کو ناگوار ہوئی، پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”کون ہے؟ اس نے درست بات ہی کہی ہے“، تب اس شخص نے کہا: میں نے کہا ہے اور میں اس کے ساتھ خیر کی امید ہی رکھتا ہوں آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں نے تیرہ فرشتوں کو ایک دوسرے سے سے آگے بڑھتے ہوئے دیکھا تاکہ ان کلمات کو اللہ عزوجل تک پہنچائیں۔“[صحيح الادب المفرد/حدیث: 535]
