العربية (الأصل)
503/646 عن أبي هريرة: أن النبي صلى الله عليه وسلم رقى المنبر فقال:"آمين، آمين، آمين" قيل له: يا رسول الله! ما كنت تصنع هذا؟ فقال:" قال لي جبريل: رغم أنف عبد أدرك أبويه أو أحدهما لم يدخله الجنة. قلت: آمين. ثم قال: رغم أنف عبد دخل عليه رمضان لم يغفر له. فقلت: آمين. ثم قال: رغم أنف امرئ ذُكرتَ عنده فلم يصل عليك، فقلت: آمين".
الترجمة الإنجليزية
Abu Hurayrah reported that the Prophet (peace be upon him) ascended the pulpit and said: 'Amin, Amin, Amin.' It was said to him: 'O Messenger of Allah! You never used to do this.' He said: 'Jibril said to me: May the nose of a slave be rubbed in dust who reaches his parents or one of them and they do not cause him to enter Paradise. I said: Amin. Then he said: May the nose of a slave be rubbed in dust upon whom Ramadan enters and he is not forgiven. I said: Amin. Then he said: May the nose of a person be rubbed in dust before whom you are mentioned and he does not send blessings upon you. I said: Amin.'
الترجمة الأردية
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبیصلی اللہ علیہ وسلممنبر پر چڑھے اور فرمایا:”آمین، آمین، آمین۔“آپ سے عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! آپ پہلے تو ایسے نہیں کرتے تھے۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا کہ جبریل نے مجھ سے کہا کہ اس کی ناک خاک آلود ہو جس نے اپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک کو پایا، اور وہ اسے جنت میں داخل نہ کر سکے۔ میں نے کہا: آمین، پھر کہا کہ اس آدمی کی ناک خاک آلود ہو جس کی زندگی میں رمضان کا مہینہ آیا اور اس کی مغفرت نہ ہوئی، میں نے کہا: آمین، پھر کہا: کہ اس کی بھی ناک خا ک آلود ہو جس کے سامنے آپ کا نام لیا گیا اور اس نے آپ پر درود نہیں پڑھا۔ میں نے کہا: آمین۔[صحيح الادب المفرد/حدیث: 503]
