العربية (الأصل)
465/596 عن أبي هريرة، قال: أهدى رجل من بني فزارة للنبي صلى الله عليه وسلم ناقة، فعوضه، فتسخطه، فسمعت النبي صلى الله عليه وسلم على المنبر يقول:" يُهدي أحدهم، فأعوضه بقدر ما عندي، ثم يسخطه، وأيم الله! لا أقبل بعد عامي هذا من العرب هدية إلا من قرشيّ، أو أنصاري، أو ثقفي، أو دوسي".
الترجمة الإنجليزية
Jabir reported from the Prophet, peace be upon him, who said, 'Do not wish for death, for the terror of the standing place is great. Part of a person's good fortune is that his life is long and Allah grants him repentance.'
الترجمة الأردية
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنی فزارہ کے ایک شخص نے نبیصلی اللہ علیہ وسلمکو ایک اونٹنی ہدیہ دی، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے اس کو اس کا عوض دیا تو وہ شخص اس سے ناراض ہوا، اس پر میں نے نبیصلی اللہ علیہ وسلمکو منبر پر فرماتے ہوئے سنا:”ان میں سے کوئی مجھے ہدیہ دیتا ہے میں اسے اس مقدار کے مطابق عوض دیتا ہوں جو میرے پاس ہے پھر وہ اس پر ناراض ہوتا ہے اور اللہ کی قسم! میں اس کے بعد سوائے قریشی، انصاری، ثقفی یا دوسی کے کسی بھی عرب سے ہدیہ قبول نہیں کروں گا۔“[صحيح الادب المفرد/حدیث: 465]
