العربية (الأصل)
405/520 عن ثلاثة(1)من بني سعد- كلهم يحدث عن أبيه-: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل على سعد يعوده بمكة ؛ فبكى. فقال:" ما يبكيك؟". قال: خشيت أن أموت بالأرض التي هاجرت منها، كما مات سعد(2). قال:"اللهم! اشفِ سعداً"(ثلاثاً). فقال: لي مال كثير، يرثني ابنتي، أفأوصي بمالي كله؟ قال:"لا". قال: فبالثلثين؟ قال:"لا". قال: فالنصف. قال:"لا"، قال: فالثلث؟ قال: الثلث، والثلث كثير، إن صدَقَتك من مالك صدقة، ونفقتك على عيالك صدقة، وما تأكل امرأتك من طعامك لك صدقة، وإنك أن تدع أهلك بخير- أو قال: بعيشٍ- خير من أن تدعهم يتكففون الناس"، وقال بيده.
الترجمة الإنجليزية
Three men from the sons of Sa'd — each narrating from his father — reported that the Messenger of Allah, peace be upon him, came to visit Sa'd while he was ill in Makkah. Sa'd wept, and the Prophet said, 'What makes you weep?' He said, 'I fear that I will die in the land from which I emigrated, as Sa'd [ibn Khawlah] died.' He said, 'O Allah, heal Sa'd' — three times. Sa'd said, 'I have much wealth and only a daughter to inherit from me. Should I bequeath all my wealth?' He said, 'No.' He said, 'Two-thirds?' He said, 'No.' He said, 'Half?' He said, 'No.' He said, 'One-third?' He said, 'One-third, and one-third is a lot. Your charity from your wealth is charity. Your spending on your family is charity. What your wife eats from your food is charity for you. It is better for you to leave your family with wealth — or with sustenance — than to leave them begging from people' — and he gestured with his hand.
الترجمة الأردية
سعد کے تین بیٹوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلممکہ میں سعد کی عیادت کے لیے تشریف لائے تو سعد رضی اللہ عنہ رونے لگے، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے پوچھا:”تم کیوں روتے ہو؟“کہا: مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں میں اس زمین میں نہ مر جاؤں جہاں سے میں نے ہجرت کی ہے جیسا کہ سعد (بن خولہ) انتقال کر گئے۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے تین بار فرمایا:”اے اللہ! سعد کو شفا دے۔“پھر سعد نے کہا: میرے پاس بہت سا مال ہے، جس کی وارث صرف میری بیٹی ہو گی، کیا میں اپنے پورے مال کی (اللہ کے راستے میں) وصیت کر جاؤں؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”نہیں“، انہوں نے کہا: دو تہائی کی؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”نہیں“، انہوں نے کہا: نصف مال کی؟ آپ نے فرمایا:”نہیں“، انہوں نے کہا: اچھا ایک تہائی مال کی؟ آپ نے فرمایا:”ہاں، ایک تہائی مال کی اور ایک تہائی بھی بہت ہے، تم نے اپنے مال میں جو صدقہ دیا وہ صدقہ ہے اور تمہارا اپنے بیوی بچوں پر خرچ کرنا صدقہ ہے۔ اور جو تمہارے کھانے سے تمہاری بیوی کھا لے وہ صدقہ ہے، اور یہ کہ تم اپنے اہل و عیال کو مال و دولت یا کہا: گزران کے ساتھ چھوڑو تو وہ اس سے بہتر ہے کہ تم اسے اس حال میں چھوڑو کہ وہ لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلائیں۔“اور ہاتھ سے اشارہ کیا۔[صحيح الادب المفرد/حدیث: 405]
