العربية (الأصل)
353/454 عن قيس بن أبي حازم قال: دخلنا على خباب نعوده، وقد اكتوى سبع كيات، فقال: إن أصحابنا الذين سلفوا مضوا، ولم تنقصهم الدنيا، وإنا أصبنا ما لا نجد له موضعاً إلا التراب ولولا أن النبي صلى الله عليه وسلم"نهانا أن ندعو بالموت" لدعوت به".
الترجمة الإنجليزية
Qays ibn Abi Hazim reported: We entered upon Khabbab to visit him while he was ill. He had been cauterized in seven places. He said, 'Our companions who passed away departed without the world diminishing their reward. As for us, we have acquired wealth for which we can find no place except the ground. Were it not that the Prophet, peace be upon him, forbade us from wishing for death, I would have wished for it.'
الترجمة الأردية
قیس بن ابی حازم سے مروی ہے، انہوں نے کہا کہ ہم خباب کے پاس عیادت کے لیے آئے۔ انہوں نے سات داغ لگوائے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بیشک ہمارے اسلاف گزر گئے اور دنیا ان کے مرتبہ کو ذرّہ بھر کم نہ کر سکی اور بیشک ہم نے اتنا پا لیا کہ اب اس کے (خرچ کرنے کے) لیے مٹی کے سوا کوئی جگہ نہیں پاتے اور اگر نبیصلی اللہ علیہ وسلمنے موت کی دعا سے منع نہ فرمایا ہوتا تو میں موت کی دعا کرتا۔ اس کے بعد دوسری بار ہم آئے، تو دیکھا کہ وہ اپنی ایک دیوار بنا رہے ہیں، کہا کہ ایک مسلمان اپنے سارے ہی اخرجات کا اجر پاتا ہے سوائے اس کے جو مٹی میں ڈال دے (مکان کی تعمیر میں خرچ کرے)۔[صحيح الادب المفرد/حدیث: 353]
