العربية (الأصل)
275/359(صحيح)عن رافع بن خديج وسهل بن أبي حثمة، أنهما حدثا – أو حدثاه- أن عبد الله بن سهل ومحيصة بن مسعود أتيا خيبر، فتفرقا في النخل، فقتل عبد الله بن سهل، فجاء عبد الرحمن بن سهل، وحويصة ومحيصة ابنا مسعود إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فتكلموا في أمر صاحبهم، فبدأ عبد الرحمن، وكان أصغر القوم! فقال له النبي صلى الله عليه وسلم:"الكبر الكبر"- قال يحيى ليَلي الكلام الأكبر- فتكلموا في أمر صاحبهم. فقال النبي صلى الله عليه وسلم:"استحقوا قتيلكم- أو قال صاحبكم- بأيمان خمسين منكم؟". قالوا: يا رسول الله! أمرٌ لم نره. قال:" فتبرئكم يهود بأيمان خمسين منهم؟". قالوا: يا رسول الله! قوم كفار! ففداه رسول الله صلى الله عليه وسلم من قِبَلِه. قال: سهل فأدركت ناقة من تلك الإبل، فدخلت مربداً(1)لهم، فركضتني برجلها.
الترجمة الإنجليزية
Rafi' ibn Khadij and Sahl ibn Abi Hathmah reported that Abdullah ibn Sahl and Muhaysah ibn Mas'ud went to Khaybar and separated among the palm trees. Abdullah ibn Sahl was killed. Abd al-Rahman ibn Sahl, Huwaysah and Muhaysah — the sons of Mas'ud — came to the Prophet, peace be upon him, and spoke about their companion's case. Abd al-Rahman began to speak first, and he was the youngest of them. The Prophet, peace be upon him, said to him, 'Let the elder speak first.' So they spoke about their companion. The Prophet, peace be upon him, said, 'Will you establish your claim to the blood of your slain — or your companion — with the oaths of fifty of your men?' They said, 'O Messenger of Allah, it is something we did not witness.' He said, 'Then will the Jews acquit themselves with the oaths of fifty of their men?' They said, 'O Messenger of Allah, they are disbelievers!' So the Messenger of Allah, peace be upon him, paid the blood money from his own resources. Sahl said, 'I came upon one of those camels entering their pen, and it kicked me with its leg.'
الترجمة الأردية
رافع بن خدیج اور سہل بن ابی حثمہ سے مروی ہے کہ ان دونوں نے بیان کیا یا دونوں نے اس کو بیان کیا کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ بن مسعود دونوں خیبر میں آئے اور ایک دوسرے سے باغ میں بچھڑ گئے۔ تو عبداللہ بن سہل (اکیلے میں) قتل کر دئیے گئے تو عبدالرحمان بن سہل اور مسعود کے دونوں بیٹے حویصہ اور محیصہ تینوں مل کر نبیصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمات میں آئے اور اپنے (مرحوم) ساتھی کے متعلق گفتگو کرنے لگے۔ عبدالرحمان نے گفتگو کی ابتداء کی اور وہ تینوں میں (عمر میں) سب سے چھوٹے تھے۔ تو نبیصلی اللہ علیہ وسلمنے ان سے فرمایا کہ بڑے کو پہل کرنے دو۔ یحییٰ کہتے ہیں کہ (اس کا مطلب یہ ہے کہ) سب سے بڑا گفتگو کرے۔ تو ان لوگوں نے اپنے ساتھی کے معاملے میں (آپصلی اللہ علیہ وسلمسے) بات کی۔ تو نبیصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”تم اپنے مقتول کی یا اپنے ساتھی کی دیت کا حق اپنے پچاس آدمیوں کی قسم سے لے سکتے ہو۔“(یعنی پچاس آدمی قسم کھائیں کہ یہودیوں نے اسے قتل کیا ہے) ان لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ ایسا کام تھا جس کو ہم نے دیکھا نہیں۔ یہود بری ہو جاتے ہیں تمہارے روبرو پچاس آدمی قسم دے کر۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! یہ لوگ تو کفار ہیں۔ ہم ان کی قسمیں کیسے قبول کر لیں؟ اس پر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے اپنے پاس سے اس کی دیت ادا کر دی۔ سہل بیان کرتے ہیں: اس میں ایک اونٹنی میرے حصے میں آئی تھی، میں ان کے باڑے میں گیا تو اس نے مجھے ٹانگ مار دی۔[صحيح الادب المفرد/حدیث: 275]
