العربية (الأصل)
251/330(صحيح)عن أبي جبيرة بن الضحاك قال: فينا نزلت- في بني سلمة-? ولا تنابزوا بالألقاب?[الحجرات: 11]قال: قَدِمَ علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم وليس منا رجل إلا له اسمان، فجعل النبي صلى الله عليه وسلم يقول:"يا فلان!" فيقولون: يارسول الله! إنه يغضب منه(7).
الترجمة الإنجليزية
Abu Jubayrah ibn al-Dahhak reported: 'The verse "and do not call each other by offensive nicknames" [49:11] was revealed about us — Banu Salamah. When the Messenger of Allah, peace be upon him, came to us, there was not a man among us who did not have two names. The Prophet, peace be upon him, would call one by his name, and they would say, "O Messenger of Allah, he gets angry at that name."'
الترجمة الأردية
ابوجبیر ہ بن ضحاک سے مروی ہے انہوں نے کہا: ہمارے بنو سلمہ کے بارے میں یہ آیات اتری ہے:«ولا تنابزوا بالألقاب»[الحجرات: ۱۱]”اور آپس میں ایک دوسرے کو برے القاب نہ دیا کرو۔“انہوں نے کہا: جب رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمہمارے پاس تشریف لائے تو ہم میں کوئی ایسا شخص نہ تھا جس کے دو نام نہ ہوں (ایک اصلی اور ایک بگڑا ہوا)۔ تو نبیصلی اللہ علیہ وسلمفرمانا شروع ہوئے:”اے فلاں!“تو لوگ کہتے: یا رسول اللہ! یہ اس سے ناراض ہوتا ہے۔ (کیونکہ یہ اس کا بگڑا ہوا نام ہے اور آپصلی اللہ علیہ وسلمکو وہی نام معلوم ہوتا)[صحيح الادب المفرد/حدیث: 251]
