العربية (الأصل)
189/251 عن عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم، قالت:" ما رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم ضاحكاً قط حتى أرى منه لهواته، إنما كان يتبسم صلى الله عليه وسلم". قالت: وكان إذا رأى غيماً أو ريحاً عرف في وجهه(وفي طريق: إذا رأى مخيلة دخل وخرج، وأقبل وأدبر وتغير وجهه، فإذا أمطرت سري عنه/908). فقالت: يا رسول الله! إن الناس إذا رأوا الغيم فرحوا؛ رجاء أن يكون فيه المطر، وأراك إذا رأيته عُرِفَت في وجهك الكراهة؟ فقال:" يا عائشة! ما يؤمني أن يكون فيه عذاب؟ عذّب قوم بالريح، وقد رأى قوم العذاب منه. فقالوا:?هذا عارض ممطرنا?[الأحقاف: 24](ومن الطريق الأخرى: وما أدري لعله كما قال الله عز وجل:? فلما رأوه عارضاً مستقبل أوديتهم? الآية).
الترجمة الإنجليزية
Aishah, the wife of the Prophet, peace be upon him, said: 'I never saw the Messenger of Allah, peace be upon him, laughing so much that I could see his uvula. He would only smile.' She said: When he saw clouds or wind, it would be recognized on his face — and in another narration: when he saw rain clouds, he would enter and exit, come and go, and his face would change. When it rained, it would be relieved from him. She said: 'O Messenger of Allah, when people see clouds they rejoice, hoping it will bring rain, but when you see them, I can see displeasure on your face.' He said: 'O Aishah, what assures me that there is no punishment in them? A people were punished by the wind. They saw the punishment coming and said: "This is a cloud bringing us rain" [46:24].' And from the other narration: 'And I do not know — perhaps it is as Allah, Mighty and Majestic, said: "When they saw it as a cloud approaching their valleys..."'
الترجمة الأردية
نبیصلی اللہ علیہ وسلمکی اہلیہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو اتنا کھل کر ہنستے کبھی نہیں دیکھا کہ میں آپصلی اللہ علیہ وسلم(کے حلق) کا کوا دیکھوں۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمصرف مسکراتے تھے، آپصلی اللہ علیہ وسلمجب کبھی گہرا بادل یا آندھی دیکھتے تو آپصلی اللہ علیہ وسلمکے چہرے پر اس(دہشت اور خوف) کے اثرات معلوم ہوتے تھے، اور ایک روایت میں ہے: جب آپصلی اللہ علیہ وسلمگرجنے اور برسنے والا بادل دیکھتے تو کبھی اندر آتے، کبھی باہر نکلتے اور کبھی آتے، کبھی جاتے اور آپ کا چہرہ متغیر ہو جاتا۔ جب بارش برسا دیتا تو آپ کی یہ کیفیت دور کر دی جاتی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یا رسول اللہ! لوگ جب گہرا بادل دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں کہ شاید پانی برسے گا، اور آپ جب دیکھتے ہیں تو آپ کے چہرے پر ناگواری کے اثرات نمایاں ہو جاتے ہیں، تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اے عائشہ! میں ان سے بےخوف نہیں ہوتا کہ اس میں عذاب ہو ایک قوم پر آندھی سے عذاب آ چکا ہے، اور ایک قوم نے اسی طرح کا عذاب دیکھا ہے۔ لوگ کہتے تھے کہ یہ تو بادل ہے ہمیں بارش دے گا۔“اور ایک اور سند سے ہے:”اور میں نہیں جانتا شاید یہ ویسے ہی ہو جیسے اللہ نے ارشاد فرمایا: جب انہوں نے اسے دیکھا بادل ہے جو میدانوں میں بڑھتا چلا آ رہا ہے (تو انہوں نے کہا: «هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا» )۔“[صحيح الادب المفرد/حدیث: 189]
