العربية (الأصل)
14/18(حسن)عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: أَوْصَانِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتِسْعٍ:"لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا وَإِنْ قُطِّعْتَ أَوْ حُرِّقْتَ، وَلَا تَتْرُكَنَّ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ مُتَعَمِّدًا؛ وَمَنْ تَرَكَهَا مُتَعَمِّدًا بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ(2)، وَلَا تَشْرَبَنَّ الْخَمْرَ؛ فَإِنَّهَا مِفْتَاحُ كُلِّ شَرٍّ، وَأَطِعْ وَالِدَيْكَ، وَإِنْ أَمَرَاكَ أَنْ تَخْرُجَ مِنْ دنياك؛ فاخرج لهما، ولا تُنَازِعَنَّ وُلَاةَ الْأَمْرِ، وَإِنْ رَأَيْتَ أَنَّكَ أَنْتَ(1)، وَلَا تفرِر مِنَ الزَّحْفِ؛ وَإِنْ هَلَكْتَ وَفَرَّ أَصْحَابُكَ، وَأَنْفِقْ مِنْ طَولك عَلَى أَهْلِكَ، وَلَا تَرْفَعْ عَصَاكَ عَنْ أَهْلِكَ، وَأَخِفْهُمْ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ"(2).
الترجمة الإنجليزية
Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace be upon him, said: 'Allah, Mighty and Majestic, created creation. When He finished, the womb stood up and said: This is the place of the one who seeks refuge in You from being cut off. He said: Yes, are you not pleased that I maintain ties with whoever maintains ties with you, and cut off whoever cuts you off? It said: Yes, O my Lord. He said: Then that is yours.' The Messenger of Allah said, 'Recite if you wish: "Would you then, if you were given authority, cause corruption on earth and sever your ties of kinship?" [47:22]'
الترجمة الأردية
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے مجھے نو باتوں کی وصیت فرمائی ہے وہ یہ ہیں ؛ اگر تم کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے یا جلا دیا جائے پھر بھی اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا، فرض نماز کو کبھی جان بوجھ کر نہ چھوڑنا، جس نے اسے جان بوجھ کر چھوڑ دیا اس سے (اللہ اور اس کے رسول کا) ذمہ بری ہو گیا، کبھی شراب نہ پینا یہ ہر برائی کی کنجی ہے، اپنے والدین کی اطاعت کرنا، اگرچہ وہ تمہیں حکم دیں کہ اپنی دنیا سے نکل جاؤ (مطلب یہ کہ دنیا کا سارا سامان ان کے حوالے کر دو) تو ان کی خاطر نکل جاؤ، حکمرانوں سے جھگڑے نہ کرنا، اگر تمہارا خیال ہو کہ تم اس کے لائق ہو (یعنی تم ہی اکیلے حق پر ہو)، جنگ سے کبھی نہ بھاگنا اگرچہ تم ہلاک ہو جاؤ اور تمہارے ساتھی بھاگ جائیں اور اپنے مال سے اپنے اہل و عیال پر خرچ کرنا اور اپنے اہل و عیال سے اپنی لاٹھی کو اٹھا نہ رکھنا (مطلب یہ ہے کہ ادب کا کوڑا تربیت کے لیے قائم رکھنا) اور انہیں اللہ عزوجل کی ذات کے بارے میں ڈراتے رہنا۔[صحيح الادب المفرد/حدیث: 14]
