العربية (الأصل)
108/145 عن خالد العبسي قال: مات ابن لي، فوجدت عليه وجداً شديداً. فقلت: يا أبا هريرة! ما سمعت من النبي صلى الله عليه وسلم شيئاً تسخي به أنفسنا عن موتانا؟ قال: سمعت من النبي صلى الله عليه وسلم يقول:"صغاركم دَعاميصُ(3)الجنة".
الترجمة الإنجليزية
Khalid al-Absi reported: My son died and I grieved deeply for him. I said, 'O Abu Hurayrah, have you heard anything from the Prophet, peace be upon him, that would comfort us about our dead?' He said: 'I heard the Prophet, peace be upon him, say: "Your young children are the roaming creatures of Paradise."'
الترجمة الأردية
خالد عبسی کہتے ہیں، میرا ایک بیٹا فوت ہو گیا۔ مجھے اس کا بڑا صدمہ ہوا، تو میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ نے نبیصلی اللہ علیہ وسلمسے کیا سنا ہے جس کے ذریعہ ہم اپنے دلوں کو اپنے مردوں کے غم سے تسلی دے سکیں؟ انہوں نے کہا: میں نے نبیصلی اللہ علیہ وسلمسے سنا ہے آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”تمہارے چھوٹے بچے جنت کے«دعاميص»ہیں۔“دعامیص کی وضاحت: ابن کثیر کہتے ہیں:«دعاميص»اصل میں«دعموص»کی جمع ہے۔ یہ ایک کیڑے پر بولا جاتا ہے جو کہ ایک ٹھہرے ہوئے پانی میں پایا جاتا ہے۔ اسی طرح«دعموص»کسی بھی جگہ گھس جانے والے کو بھی کہتے ہیں یعنی یہ بچے جنت میں بلا روک ٹوک گھومتے پھریں گے، گھروں میں داخل ہوں گے اور ان پر کہیں جانا منع نہیں ہو گا۔[صحيح الادب المفرد/حدیث: 108]
