العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ زَكَرِيَّا قَالَ: حَدَّثَنِي عَامِرٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُطِيعٍ قَالَ: سَمِعْتُ مُطِيعًا يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ، يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ: لاَ يُقْتَلُ قُرَشِيٌّ صَبْرًا بَعْدَ الْيَوْمِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَلَمْ يُدْرِكِ الإِسْلاَمَ أَحَدٌ مِنْ عُصَاةِ قُرَيْشٍ غَيْرُ مُطِيعٍ، كَانَ اسْمُهُ الْعَاصَ فَسَمَّاهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مُطِيعًا.
الترجمة الإنجليزية
Muti' said, "I heard the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) say on the day of the Conquest of Makka, 'No Qurayshi will be killed in custody from today until the Day of Rising.'" None of the rebels of Quraysh except Muti' became Muslim. His name had been al-'As and the Prophet renamed him Muti' (obedient).
الترجمة الأردية
حضرت مُطیع رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو فتح مکہ کے دن فرماتے سنا: آج سے قیامت تک کسی قریشی کو قید میں قتل نہیں کیا جائے گا۔ قریش کے سرکشوں میں سے حضرت مطیع کے سوا کوئی مسلمان نہیں ہوا تھا۔ ان کا نام العاص (نافرمان) تھا اور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا نام بدل کر مطیع (فرمانبردار) رکھ دیا۔
