العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَشِيطٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ قَالَ: جَاءَ قَوْمٌ إِلَى عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ فَقَالُوا: إِنَّ لَنَا جِيرَانًا يَشْرَبُونَ وَيَفْعَلُونَ، أَفَنَرْفَعُهُمْ إِلَى الإِمَامِ؟ قَالَ: لاَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ: مَنْ رَأَى مِنْ مُسْلِمٍ عَوْرَةً فَسَتَرَهَا، كَانَ كَمَنْ أَحْيَا مَوْءُودَةً مِنْ قَبْرِهَا.
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Abu'l-Haytham said, "Some people came to 'Uqba ibn 'Amir and said, 'We have some neighbours who drink (wine) and behave incorrectly. Shall we bring them before the ruler?' 'No,' he replied, 'I heard the Messenger of Allah say, "Whoever sees the fault of a Muslim and then veils it, it is as if he brought girl buried alive back to life from her grave.''"
الترجمة الأردية
حضرت ابو الہیثم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اور کہا: ہمارے کچھ پڑوسی شراب پیتے ہیں اور بری حرکتیں کرتے ہیں، کیا ہم انہیں حاکم کے سامنے لے جائیں؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا: جو کسی مسلمان کا عیب دیکھے اور اسے چھپا لے تو وہ ایسا ہے جیسے اس نے ایک زندہ دفن کی گئی لڑکی کو اس کی قبر سے زندہ نکالا۔
