العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: حُوسِبَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ مِنَ الْخَيْرِ إِلاَّ أَنَّهُ كَانَ رَجُلاً يُخَالِطُ النَّاسَ وَكَانَ مُوسِرًا، فَكَانَ يَأْمُرُ غِلْمَانَهُ أَنْ يَتَجَاوَزُوا عَنِ الْمُعْسِرِ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: فَنَحْنُ أَحَقُّ بِذَلِكَ مِنْهُ، فَتَجَاوَزَ عَنْهُ.
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Abu Mas'ud al-Ansari reported that the Beloved Messenger of Allah said, "Before your time a man was called to account and it was found that the only good thing he had done was that he was easy in his business dealings with people. He used to order his slaves to go easy with people who were in difficulty. Allah Almighty said, 'We are more entitled to do that than he is, so forgive him.'"
الترجمة الأردية
حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم سے پہلے ایک شخص کا حساب لیا گیا اور اس کے پاس کوئی نیکی نہیں ملی سوائے اس کے کہ وہ لوگوں سے لین دین میں نرمی کرتا تھا اور اپنے غلاموں کو حکم دیتا تھا کہ تنگ دست سے آسانی کریں۔ اللہ عزوجل نے فرمایا: ہم اس سے زیادہ حق دار ہیں (نرمی کے)، اسے معاف کر دو۔
