العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: أَلاَ أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ؟ ثَلاَثًا، قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَجَلَسَ وَكَانَ مُتَّكِئًا أَلاَ وَقَوْلُ الزُّورِ، مَا زَالَ يُكَرِّرُهَا حَتَّى قُلْتُ: لَيْتَهُ سَكَتَ.
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Abu Bakra reported that the Beloved Messenger of Allah said, "Shall I tell you which is the worst of the major wrong actions?" "Yes, Beloved Messenger of Allah," they replied. He said, "Associating something else with Allah and disobeying parents." He had been reclining but then he sat up and said, "and false witness." Abu Bakra said, "He continued to repeat it until I said, 'Is he never going to stop?'"
الترجمة الأردية
حضرت ابو بکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے بڑے کبیرہ گناہ نہ بتاؤں؟ عرض کیا گیا: جی ہاں یا رسول اللہ! ارشاد فرمایا: اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا اور والدین کی نافرمانی۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ٹیک لگائے ہوئے تھے پھر سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا: اور جھوٹی گواہی۔ حضرت ابو بکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: آپ بار بار اسے دہراتے رہے یہاں تک کہ میں نے کہا: کیا آپ رکیں گے نہیں؟
