العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَبَرُّ قَالَ " أُمَّكَ ثُمَّ أُمَّكَ ثُمَّ أُمَّكَ ثُمَّ أَبَاكَ ثُمَّ الأَقْرَبَ فَالأَقْرَبَ " . وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَسْأَلُ رَجُلٌ مَوْلاَهُ مِنْ فَضْلٍ هُوَ عِنْدَهُ فَيَمْنَعُهُ إِيَّاهُ إِلاَّ دُعِيَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَضْلُهُ الَّذِي مَنَعَهُ شُجَاعًا أَقْرَعَ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ الأَقْرَعُ الَّذِي ذَهَبَ شَعْرُ رَأْسِهِ مِنَ السُّمِّ .
الترجمة الإنجليزية
Bahz ibn Hakim narrates from his father, from his grandfather, who submitted: O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), to whom should I show the most kindness? He stated: Your mother, then your mother, then your mother, then your father, then the next closest relative and the next closest. And the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: If any man asks his freed slave for surplus wealth that he has and the slave refuses him, on the Day of Resurrection the surplus that he withheld will be called forth in the form of a bald-headed serpent. Abu Dawud said: The bald-headed serpent (aqra') is one whose head has lost its hair due to the accumulation of venom.
الترجمة الأردية
بہز بن حکیم اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں سب سے زیادہ حسنِ سلوک کس کے ساتھ کروں؟ ارشاد فرمایا: اپنی ماں کے ساتھ، پھر اپنی ماں کے ساتھ، پھر اپنی ماں کے ساتھ، پھر اپنے باپ کے ساتھ، پھر درجہ بدرجہ قریبی رشتے داروں کے ساتھ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی شخص اپنے آزاد کردہ غلام سے ایسی فاضل چیز مانگے جو اس کے پاس ہو اور وہ اسے نہ دے تو قیامت کے دن اس کی روکی ہوئی فاضل چیز ایک گنجے سانپ کی صورت میں بلائی جائے گی۔ حضرت ابوداؤد فرماتے ہیں: اقرع وہ سانپ ہے جس کے سر کے بال زہر کی وجہ سے جھڑ گئے ہوں۔
