العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ كُلَّ يَوْمِ اثْنَيْنِ وَخَمِيسٍ فَيُغْفَرُ فِي ذَلِكَ الْيَوْمَيْنِ لِكُلِّ عَبْدٍ لاَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا إِلاَّ مَنْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ فَيُقَالُ أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم هَجَرَ بَعْضَ نِسَائِهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا وَابْنُ عُمَرَ هَجَرَ ابْنًا لَهُ إِلَى أَنْ مَاتَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ إِذَا كَانَتِ الْهِجْرَةُ لِلَّهِ فَلَيْسَ مِنْ هَذَا بِشَىْءٍ وَإِنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ غَطَّى وَجْهَهُ عَنْ رَجُلٍ .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Abu Hurairah reported the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) as saying:The gates of Paradise are opened on Mondays and Thursdays, and forgiveness is granted to every man who does not associate anything with Allah, except for a man between whom and his brother there is rancor. Command will be given that they should be given respite till they conciliate. Abu Dawud said: The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) kept apart from some of his wives for forty days, and Hadrat Ibn 'Umar kept apart from his son till he died. Abu Dawud said: If keeping apart is meant for the sake of Allah, then it has no concern with it. 'Umar bin 'Abd al-'Aziz covered his face from a man
الترجمة الأردية
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر دوشنبہ اور جمعرات کو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں پھر ان دنوں میں ہر اس بندے کی مغفرت کی جاتی ہے، جو اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کرتا البتہ اس بندے کی نہیں جس کے درمیان اور اس کے بھائی کے درمیان دشمنی اور رقابت ہو، پھر کہا جاتا ہے: ان دونوں ( کی مغفرت ) کو ابھی رہنے دو جب تک کہ یہ صلح نہ کر لیں ۔ حضرت ابوداؤد فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بعض ازواج مطہرات کو چالیس دن تک چھوڑے رکھا، اور حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اپنے ایک بیٹے سے بات چیت بند رکھی یہاں تک کہ وہ مر گیا۔ حضرت ابوداؤد فرماتے ہیں: یہ قطع کلامی اگر اللہ کے لیے ہو ۱؎ تو اس میں کوئی حرج نہیں اور عمر بن عبدالعزیز نے ایک شخص سے اپنا چہرہ ڈھانک لیا۔
