العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ، حَدَّثَهُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ أَتَى نَفَرٌ مِنْ يَهُودَ فَدَعَوْا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْقُفِّ فَأَتَاهُمْ فِي بَيْتِ الْمِدْرَاسِ فَقَالُوا يَا أَبَا الْقَاسِمِ إِنَّ رَجُلاً مِنَّا زَنَى بِامْرَأَةٍ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ فَوَضَعُوا لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وِسَادَةً فَجَلَسَ عَلَيْهَا ثُمَّ قَالَ " ائْتُونِي بِالتَّوْرَاةِ " . فَأُتِيَ بِهَا فَنَزَعَ الْوِسَادَةَ مِنْ تَحْتِهِ فَوَضَعَ التَّوْرَاةَ عَلَيْهَا ثُمَّ قَالَ " آمَنْتُ بِكِ وَبِمَنْ أَنْزَلَكِ " . ثُمَّ قَالَ " ائْتُونِي بِأَعْلَمِكُمْ " . فَأُتِيَ بِفَتًى شَابٍّ ثُمَّ ذَكَرَ قِصَّةَ الرَّجْمِ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ .
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Abdullah Hadrat Ibn Umar that a group of Jews came and invited the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) to Quff. So he visited them in their school. They said: AbulQasim, one of our men has committed fornication with a woman; so pronounce judgment upon them. They placed a cushion for the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) who sat on it and said: Bring the Torah. It was then brought. He then withdrew the cushion from beneath him and placed the Torah on it saying: I believed in thee and in Him Who revealed thee. He then said: Bring me one who is learned among you. Then a young man was brought. The transmitter then mentioned the rest of the tradition of stoning similar to the one transmitted by Malik from Nafi'(No)
الترجمة الأردية
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ یہود کے کچھ لوگ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو بلا کر قف ۱؎ لے گئے آپ ان کے پاس بیت المدارس ( مدرسہ ) میں آئے تو وہ کہنے لگے: ابوالقاسم! ہم میں سے ایک شخص نے ایک عورت سے زنا کر لیا ہے، آپ ان کا فیصلہ کر دیجئیے، ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ایک گاؤ تکیہ لگایا، آپ اس پر ٹیک لگا کر بیٹھے، پھر آپ نے ارشاد فرمایا: میرے پاس تورات لاؤ چنانچہ وہ لائی گئی، آپ نے اپنے نیچے سے گاؤ تکیہ نکالا، اور تورات کو اس پر رکھا اور فرمایا: میں تجھ پر ایمان لایا اور اس نبی پر جس پر اللہ نے تجھے نازل کیا ہے پھر آپ نے ارشاد فرمایا: جو تم میں سب سے بڑا عالم ہو اسے بلاؤ چنانچہ ایک نوجوان کو بلا کر لایا گیا آگے واقعہ رجم کا اسی طرح ذکر ہے جیسے مالک کی روایت میں ہے جسے انہوں نے نافع سے روایت کیا ہے۔
