العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ الأَنْصَارِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو قَتَادَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ فِي سَفَرٍ لَهُ فَمَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمِلْتُ مَعَهُ فَقَالَ " انْظُرْ " . فَقُلْتُ هَذَا رَاكِبٌ هَذَانِ رَاكِبَانِ هَؤُلاَءِ ثَلاَثَةٌ حَتَّى صِرْنَا سَبْعَةً . فَقَالَ " احْفَظُوا عَلَيْنَا صَلاَتَنَا " . يَعْنِي صَلاَةَ الْفَجْرِ فَضُرِبَ عَلَى آذَانِهِمْ فَمَا أَيْقَظَهُمْ إِلاَّ حَرُّ الشَّمْسِ فَقَامُوا فَسَارُوا هُنَيَّةً ثُمَّ نَزَلُوا فَتَوَضَّئُوا وَأَذَّنَ بِلاَلٌ فَصَلَّوْا رَكْعَتَىِ الْفَجْرِ ثُمَّ صَلَّوُا الْفَجْرَ وَرَكِبُوا فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ قَدْ فَرَّطْنَا فِي صَلاَتِنَا . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّهُ لاَ تَفْرِيطَ فِي النَّوْمِ إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِي الْيَقَظَةِ فَإِذَا سَهَا أَحَدُكُمْ عَنْ صَلاَةٍ فَلْيُصَلِّهَا حِينَ يَذْكُرُهَا وَمِنَ الْغَدِ لِلْوَقْتِ " .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Abu Qatadah al-Ansari (may Allah be well pleased with him) — who was the horseman of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) — narrates: 'The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) was on a journey. He (blessings and peace of Allah be upon him) turned to one side and I turned with him. He (blessings and peace of Allah be upon him) said: "Look (who is coming)." I said: "This is one rider, these are two, these are three" — until we became seven. He (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "Guard our prayer for us" — meaning the Fajr prayer. But deep sleep overwhelmed them and nothing awoke them except the heat of the sun. They arose, travelled a short distance, then dismounted and performed ablution. Hadrat Bilal (may Allah be well pleased with him) called the adhan. They prayed two rak'ahs of the Fajr sunnah, then prayed the Fajr (obligatory) prayer, and mounted (their animals).'
الترجمة الأردية
حضرت ابوقتادہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ — جو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے شہسوار تھے — فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ایک سفر میں تھے، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ایک جانب مڑے اور میں بھی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مڑ گیا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دیکھو (کون آ رہا ہے)۔ میں نے عرض کیا: یہ ایک سوار ہے، یہ دو ہیں، یہ تین ہیں — یہاں تک کہ ہم سات ہو گئے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہماری نماز — یعنی نمازِ فجر — کی حفاظت کرو۔ پھر ان کے کانوں پر (نیند کی) مہر لگا دی گئی اور انہیں سورج کی تپش کے سوا کسی چیز نے نہ جگایا۔ سب اٹھے اور تھوڑا سفر کیا، پھر اترے اور وضو کیا، حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اذان دی، سب نے فجر کی دو سنتیں پڑھیں، پھر فجر کی (فرض) نماز ادا کی اور سوار ہو گئے۔
