العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، أَنَّ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ أَبِي حَازِمٍ، حَدَّثَهُمْ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " كَيْفَ بِكُمْ وَبِزَمَانٍ " . أَوْ " يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَ زَمَانٌ يُغَرْبَلُ النَّاسُ فِيهِ غَرْبَلَةً تَبْقَى حُثَالَةٌ مِنَ النَّاسِ قَدْ مَرِجَتْ عُهُودُهُمْ وَأَمَانَاتُهُمْ وَاخْتَلَفُوا فَكَانُوا هَكَذَا " . وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ فَقَالُوا وَكَيْفَ بِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " تَأْخُذُونَ مَا تَعْرِفُونَ وَتَذَرُونَ مَا تُنْكِرُونَ وَتُقْبِلُونَ عَلَى أَمْرِ خَاصَّتِكُمْ وَتَذَرُونَ أَمْرَ عَامَّتِكُمْ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَكَذَا رُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ .
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Abdullah ibn Amr ibn al-'As that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: How will you do when that time will come? Or he said: A time will soon come when the people are sifted and only dregs of mankind survive and their covenants and guarantees have been impaired and they have disagreed among themselves and become thus, interwining his fingers. They asked: What do you order us to do, Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)? He replied: Accept what you approve, abandon what you disapprove, attend to your own affairs and leave alone the affairs of the generality. Abu dawud said: A similar tradition has been transmitted by 'Abd Allah bin 'Amr from the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) through different chain
الترجمة الأردية
حضرت عبداللہ بن حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارا اس زمانہ میں کیا حال ہو گا؟ یا آپ نے یوں فرمایا: عنقریب ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ لوگ چھن اٹھیں گے، اچھے لوگ سب مر جائیں گے، اور کوڑا کرکٹ یعنی برے لوگ باقی رہ جائیں گے، ان کے عہد و پیمان اور ان کی امانتوں کا معاملہ بگڑ چکا ہو گا ( یعنی لوگ بدعہدی اور امانتوں میں خیانت کریں گے ) آپس میں اختلاف کریں گے اور اس طرح ہو جائیں گے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر بتایا، تو صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس وقت ہم کیا کریں؟ تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو بات تمہیں بھلی لگے اسے اختیار کرو، اور جو بری لگے اسے چھوڑ دو، اور خاص کر اپنی فکر کرو، عام لوگوں کی فکر چھوڑ دو ۔ حضرت ابوداؤد فرماتے ہیں: اسی طرح حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مرفوعاً اس سند کے علاوہ سے بھی مروی ہے۔
