العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ، عَنِ الْغَرِيفِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ، قَالَ أَتَيْنَا وَاثِلَةَ بْنَ الأَسْقَعِ فَقُلْنَا لَهُ حَدِّثْنَا حَدِيثًا، لَيْسَ فِيهِ زِيَادَةٌ وَلاَ نُقْصَانٌ فَغَضِبَ وَقَالَ إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَقْرَأُ وَمُصْحَفُهُ مُعَلَّقٌ فِي بَيْتِهِ فَيَزِيدُ وَيَنْقُصُ . قُلْنَا إِنَّمَا أَرَدْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . قَالَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي صَاحِبٍ لَنَا أَوْجَبَ - يَعْنِي - النَّارَ بِالْقَتْلِ فَقَالَ " أَعْتِقُوا عَنْهُ يُعْتِقِ اللَّهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنْهُ مِنَ النَّارِ " .
الترجمة الإنجليزية
Al-Arif ibn al-Daylami (upon him be mercy) states: We came to Hadrat Wathilah ibn al-Asqa' (may Allah be well pleased with him) and said: Tell us a hadith without any addition or omission. He became angry and said: One of you recites the Quran while his written copy is hanging in his house, yet he still adds and omits (i.e. cannot memorize perfectly)! We said: We only wish for you to narrate a hadith that you heard directly from the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him). He said: We came to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) regarding a companion of ours who had committed murder and thereby made Hellfire binding upon himself. He (blessings and peace of Allah be upon him) stated: Emancipate a slave on his behalf. Allah the Exalted will set free every limb of his (the emancipator's body) from the Fire in exchange for every limb of the (emancipated slave).
الترجمة الأردية
غریف بن دیلمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ہم حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اور عرض کیا: ہمیں ایسی حدیث بیان فرمائیں جس میں نہ کمی ہو نہ بیشی۔ تو وہ ناراض ہو گئے اور فرمایا: تم میں سے ایک شخص قرآن پڑھتا ہے حالانکہ اس کا مصحف اس کے گھر میں لٹکا ہوتا ہے، پھر بھی وہ اس میں کمی بیشی کرتا ہے (یعنی کبھی پوری طرح یاد نہیں رکھ سکتا)! ہم نے عرض کیا: ہمارا مطلب صرف یہ ہے کہ آپ ہمیں وہ حدیث سنائیں جسے آپ نے (بلا واسطہ) نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہو۔ تو انہوں نے فرمایا: ہم رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک ساتھی کا معاملہ لے کر آئے جس نے قتل کا ارتکاب کر کے اپنے اوپر جہنم واجب کر لیا تھا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس کی طرف سے غلام آزاد کرو، اللہ تعالیٰ اس (غلام) کے ہر عضو کے بدلے اس (آزاد کرنے والے) کے ہر عضو کو جہنم سے آزاد فرما دے گا۔
