العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، رضى الله عنها أَخْبَرَتْهُ أَنَّ بَرِيرَةَ جَاءَتْ عَائِشَةَ تَسْتَعِينُهَا فِي كِتَابَتِهَا وَلَمْ تَكُنْ قَضَتْ مِنْ كِتَابَتِهَا شَيْئًا فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ ارْجِعِي إِلَى أَهْلِكِ فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أَقْضِيَ عَنْكِ كِتَابَتَكِ وَيَكُونَ وَلاَؤُكِ لِي فَعَلْتُ . فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ لأَهْلِهَا فَأَبَوْا وَقَالُوا إِنْ شَاءَتْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَيْكِ فَلْتَفْعَلْ وَيَكُونَ لَنَا وَلاَؤُكِ . فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " ابْتَاعِي فَأَعْتِقِي فَإِنَّمَا الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " . ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " مَا بَالُ أُنَاسٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَلَيْسَ لَهُ وَإِنْ شَرَطَهُ مِائَةَ مَرَّةٍ شَرْطُ اللَّهِ أَحَقُّ وَأَوْثَقُ " .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Mu'awiyah ibn Suwayd (may Allah be well pleased with him) states: I slapped a slave of mine — or he said: I struck him — and then he ran away. My father called us both and said to the slave: Take retribution from him. Then he said: We, the Banu Muqarrin family, had no servant during the time of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) except one maidservant, and one of us slapped her. The news reached the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) who stated: Set her free. They submitted: She is their only servant. He stated: Then let them employ her until they find another servant. When they find one, let them set her free.
الترجمة الأردية
حضرت معاویہ بن سوید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے ایک غلام کو تھپڑ مارا — یا فرمایا: تھپڑ مارا — پھر بھاگ گیا اور میرے والد نے مجھے اور اسے بلایا اور اس سے کہا: اس سے قصاص لے (بدلہ لے)۔ پھر فرمایا: ہم بنی مقرن کے لوگوں کے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں سوائے ایک لونڈی کے اور کوئی خادم نہیں تھا، اور ہم میں سے ایک نے اسے تھپڑ مار دیا تھا، تو یہ خبر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے ارشاد فرمایا: اسے آزاد کر دو۔ انہوں نے عرض کیا: اس کے سوا ان کا اور کوئی خادم نہیں ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: تو اس سے (فی الحال) خدمت لیں یہاں تک کہ انہیں اس کے بعد خادم مل جائے، جب خادم مل جائے تو اسے آزاد کر دیں۔
