العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، كِلاَهُمَا عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، - وَاللَّفْظُ لِلأَوْزَاعِيِّ - حَدَّثَنِي حَنْظَلَةُ بْنُ قَيْسٍ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ سَأَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ عَنْ كِرَاءِ الأَرْضِ، بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ فَقَالَ لاَ بَأْسَ بِهَا إِنَّمَا كَانَ النَّاسُ يُؤَاجِرُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَا عَلَى الْمَاذِيَانَاتِ وَأَقْبَالِ الْجَدَاوِلِ وَأَشْيَاءَ مِنَ الزَّرْعِ فَيَهْلِكُ هَذَا وَيَسْلَمُ هَذَا وَيَسْلَمُ هَذَا وَيَهْلِكُ هَذَا وَلَمْ يَكُنْ لِلنَّاسِ كِرَاءٌ إِلاَّ هَذَا فَلِذَلِكَ زَجَرَ عَنْهُ فَأَمَّا شَىْءٌ مَضْمُونٌ مَعْلُومٌ فَلاَ بَأْسَ بِهِ . وَحَدِيثُ إِبْرَاهِيمَ أَتَمُّ وَقَالَ قُتَيْبَةُ عَنْ حَنْظَلَةَ عَنْ رَافِعٍ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رِوَايَةُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ حَنْظَلَةَ نَحْوَهُ .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Hanzalah ibn Qays al-Ansari (upon him be mercy) said: I asked Hadrat Rafi' ibn Khadij (may Allah be well pleased with him) about leasing land for gold and silver. He said: There is no harm in it. People during the time of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) used to lease land for the crops along the channels, what was at the heads of the streams, and other crops. Some would perish and some would survive. People had no other arrangement for leasing besides this, so it was forbidden. But anything that is guaranteed and known (i.e., gold and silver), there is no harm in it. Abu Dawud (upon him be mercy) said: Ibrahim's narration is more complete. And Qutaybah narrated it from Hanzalah from Rafi'. Abu Dawud (upon him be mercy) said: Yahya ibn Sa'id's narration from Hanzalah is similar.
الترجمة الأردية
حضرت حنظلہ بن قیس انصاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: میں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سونے چاندی کے عوض زمین کرائے پر دینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں۔ لوگ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں نالیوں کے کنارے کی فصل، نہروں کے سامنے والے حصے کی فصل اور دیگر فصلوں کے عوض زمین اجرت پر دیتے تھے۔ بعض فصل ہلاک ہو جاتی اور بعض بچ جاتی۔ لوگوں کے لیے اس کے علاوہ کوئی اور صورت نہ تھی، اسی لیے منع فرمایا گیا۔ مگر کوئی چیز جو ضمانت یافتہ اور معلوم ہو (یعنی سونا چاندی) تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ ابو داؤد رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: ابراہیم کی روایت زیادہ مکمل ہے۔ اور قتیبہ نے حنظلہ سے رافع سے روایت کیا ہے۔ ابو داؤد رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: یحییٰ بن سعید کی حنظلہ سے روایت بھی اسی طرح ہے۔
