العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { وَلاَ تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلاَّ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ } وَ { إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا } الآيَةَ انْطَلَقَ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ يَتِيمٌ فَعَزَلَ طَعَامَهُ مِنْ طَعَامِهِ وَشَرَابَهُ مِنْ شَرَابِهِ فَجَعَلَ يَفْضُلُ مِنْ طَعَامِهِ فَيُحْبَسُ لَهُ حَتَّى يَأْكُلَهُ أَوْ يَفْسُدَ فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْيَتَامَى قُلْ إِصْلاَحٌ لَهُمْ خَيْرٌ وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ } فَخَلَطُوا طَعَامَهُمْ بِطَعَامِهِ وَشَرَابَهُمْ بِشَرَابِهِ .
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Abdullah ibn Abbas (may Allah be well pleased with them both) that when Allah the Almighty revealed the verses: 'Do not approach the orphan's property except in the best manner' (Surah al-An'am: 152), and: 'Indeed, those who unjustly consume the property of orphans' (Surah al-Nisa: 10), everyone who had an orphan in his care separated the orphan's food from his own food and his drink from his own drink. As a result, the orphan's food would remain and be kept aside until he ate it or it spoiled. This became a hardship upon the people, so they mentioned it to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him). Then Allah the Almighty revealed: 'They ask you concerning orphans. Say: Setting right their affairs is best. And if you mix your affairs with theirs, they are your brethren' (Surah al-Baqarah: 220). So the people then mixed their food and drink with theirs.
الترجمة الأردية
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ جب اللہ عزوجل نے یہ آیات نازل فرمائیں: «ولا تقربوا مال اليتيم إلا بالتي هي أحسن» یعنی یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر ایسے طریقے سے جو سب سے اچھا ہو (سورۃ الانعام: ۱۵۲)، اور: «إن الذين يأكلون أموال اليتامى ظلمًا» یعنی جو لوگ ظلم سے یتیموں کا مال کھاتے ہیں (سورۃ النساء: ۱۰)، تو جن لوگوں کے پاس یتیم تھے انہوں نے یتیم کا کھانا اپنے کھانے سے اور اس کا پانی اپنے پانی سے الگ کر دیا، تو یتیم کا کھانا بچ جاتا اور رکھا رہتا یہاں تک کہ وہ اسے کھاتا یا وہ خراب ہو جاتا۔ یہ بات لوگوں پر بھاری گزری، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں اس کا ذکر کیا، تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: «ويسألونك عن اليتامى قل إصلاح لهم خير وإن تخالطوهم فإخوانكم» یعنی آپ سے یتیموں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں، فرما دیجیے کہ ان کی اصلاح بہتر ہے، اور اگر تم ان کا مال اپنے مال میں ملا بھی لو تو وہ تمہارے بھائی ہیں (سورۃ البقرہ: ۲۲۰)۔ پھر لوگوں نے اپنا کھانا پینا ان کے کھانے پینے میں ملا لیا۔
