العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، - يَعْنِي الْوَهْبِيَّ - حَدَّثَنَا ابْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، وَالزُّهْرِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، قَالَ كَتَبَ نَجْدَةُ الْحَرُورِيُّ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنِ النِّسَاءِ، هَلْ كُنَّ يَشْهَدْنَ الْحَرْبَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهَلْ كَانَ يُضْرَبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ قَالَ فَأَنَا كَتَبْتُ كِتَابَ ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَى نَجْدَةَ قَدْ كُنَّ يَحْضُرْنَ الْحَرْبَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَمَّا أَنْ يُضْرَبَ لَهُنَّ بِسَهْمٍ فَلاَ وَقَدْ كَانَ يُرْضَخُ لَهُنَّ .
الترجمة الإنجليزية
Yazid ibn Hurmuz narrated: Najdah al-Haruri wrote to Hadrat Ibn Abbas (may Allah be well pleased with them both) asking about women — whether they used to participate in battle with the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and whether a regular share was allotted to them. He said: I wrote the letter of Hadrat Ibn Abbas (may Allah be well pleased with them both) to Najdah: They used to be present in battle with the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him). As for being allotted a regular share — no, but they were given something as a gift.
الترجمة الأردية
یزید بن ہرمز بیان کرتے ہیں: نجدہ حروری نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو خط لکھا اور عورتوں کے بارے میں پوچھا کہ کیا وہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جنگ میں شریک ہوتی تھیں اور کیا ان کا حصہ مقرر ہوتا تھا۔ فرمایا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا خط نجدہ کو لکھا: وہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جنگ میں حاضر ہوتی تھیں۔ جہاں تک باقاعدہ حصے کا تعلق ہے تو نہیں، لیکن ان کو کچھ عطا کیا جاتا تھا (بطورِ انعام)۔
