العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، وَعُثْمَانُ، ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ - رضى الله عنها - عَنِ الْبَدَاوَةِ، فَقَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَبْدُو إِلَى هَذِهِ التِّلاَعِ وَإِنَّهُ أَرَادَ الْبَدَاوَةَ مَرَّةً فَأَرْسَلَ إِلَىَّ نَاقَةً مُحَرَّمَةً مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ فَقَالَ لِي " يَا عَائِشَةُ ارْفُقِي فَإِنَّ الرِّفْقَ لَمْ يَكُنْ فِي شَىْءٍ قَطُّ إِلاَّ زَانَهُ وَلاَ نُزِعَ مِنْ شَىْءٍ قَطُّ إِلاَّ شَانَهُ " .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Shuraih (upon him be mercy) narrated: I asked Umm al-Mu'minin Hadrat A'ishah (may Allah be well pleased with her) about going out to the desert. She said: "The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) used to go out to these hills. Once he intended to go out to the desert and sent to me a she-camel from the camels of charity that had not yet been ridden. He stated to me: 'O A'ishah, be gentle, for gentleness has never been in anything except that it beautified it, and it has never been removed from anything except that it made it defective.'"
الترجمة الأردية
حضرت شریح رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے صحراء میں جانے (بادیہ نشینی) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ان ٹیلوں کی طرف تشریف لے جایا کرتے تھے، اور ایک مرتبہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے بادیہ تشریف لے جانے کا ارادہ فرمایا تو میرے پاس صدقہ کے اونٹوں میں سے ایک ایسی اونٹنی بھیجی جس پر ابھی سواری نہیں کی گئی تھی، اور مجھ سے ارشاد فرمایا: "اے حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ! نرمی اختیار کرو کیونکہ نرمی جس چیز میں بھی ہو اسے خوبصورت بنا دیتی ہے اور جس چیز سے نکال دی جائے اسے عیب دار کر دیتی ہے۔"
