العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَبُّويَةَ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ } فَكَانَ النَّاسُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِذَا صَلَّوُا الْعَتَمَةَ حَرُمَ عَلَيْهِمُ الطَّعَامُ وَالشَّرَابُ وَالنِّسَاءُ وَصَامُوا إِلَى الْقَابِلَةِ فَاخْتَانَ رَجُلٌ نَفْسَهُ فَجَامَعَ امْرَأَتَهُ وَقَدْ صَلَّى الْعِشَاءَ وَلَمْ يُفْطِرْ فَأَرَادَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَجْعَلَ ذَلِكَ يُسْرًا لِمَنْ بَقِيَ وَرُخْصَةً وَمَنْفَعَةً فَقَالَ سُبْحَانَهُ { عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُونَ أَنْفُسَكُمْ } . وَكَانَ هَذَا مِمَّا نَفَعَ اللَّهُ بِهِ النَّاسَ وَرَخَّصَ لَهُمْ وَيَسَّرَ .
الترجمة الإنجليزية
It is narrated from Hadrat Abdullah ibn Abbas (may Allah be well pleased with them both) that he explained the Qur'anic verse: 'O you who believe! Fasting has been prescribed for you as it was prescribed for those before you.' During the blessed era of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), when people would perform the Isha prayer, food, drink, and approaching their wives would become forbidden for them, and they would fast until the following night. Then a man betrayed himself and was intimate with his wife after having prayed Isha, without having broken his fast. So Allah, the Mighty and Majestic, willed to grant ease, concession, and benefit to those who remained, and He, the Glorified, declared: 'Allah knows that you used to betray yourselves.' This was from that which Allah benefited the people with, and granted them concession and ease.
الترجمة الأردية
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، آیتِ کریمہ «يا أيها الذين آمنوا كتب عليكم الصيام كما كتب على الذين من قبلكم» (اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے) کی تفسیر میں بیان فرمایا کہ محبوبِ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے عہدِ مبارک میں جب لوگ نمازِ عشاء پڑھ لیتے تو ان پر کھانا، پینا اور بیویوں کے پاس جانا حرام ہو جاتا، اور وہ اگلی رات تک روزے سے رہتے۔ پھر ایک شخص نے اپنے نفس سے خیانت کی اور عشاء کی نماز پڑھ چکنے کے بعد اپنی بیوی سے صحبت کر لی جبکہ اس نے روزہ نہیں توڑا تھا۔ تو اللہ عزّ وجلّ نے ارادہ فرمایا کہ باقی لوگوں کے لیے آسانی، رخصت اور منفعت عطا فرمائے، پس ارشاد فرمایا سبحانہ: «علم الله أنكم كنتم تختانون أنفسكم» (اللہ کو معلوم ہے کہ تم اپنے آپ سے خیانت کرتے تھے)۔ یہ وہ چیز تھی جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو فائدہ پہنچایا اور ان کے لیے رخصت اور آسانی فرمائی۔
