العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " أَنَّ إِبْرَاهِيمَ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَكْذِبْ قَطُّ إِلاَّ ثَلاَثًا ثِنْتَانِ فِي ذَاتِ اللَّهِ تَعَالَى قَوْلُهُ { إِنِّي سَقِيمٌ } وَقَوْلُهُ { بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا } وَبَيْنَمَا هُوَ يَسِيرُ فِي أَرْضِ جَبَّارٍ مِنَ الْجَبَابِرَةِ إِذْ نَزَلَ مَنْزِلاً فَأُتِيَ الْجَبَّارُ فَقِيلَ لَهُ إِنَّهُ نَزَلَ هَا هُنَا رَجُلٌ مَعَهُ امْرَأَةٌ هِيَ أَحْسَنُ النَّاسِ قَالَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَسَأَلَهُ عَنْهَا فَقَالَ إِنَّهَا أُخْتِي . فَلَمَّا رَجَعَ إِلَيْهَا قَالَ إِنَّ هَذَا سَأَلَنِي عَنْكِ فَأَنْبَأْتُهُ أَنَّكِ أُخْتِي وَإِنَّهُ لَيْسَ الْيَوْمَ مُسْلِمٌ غَيْرِي وَغَيْرُكِ وَإِنَّكِ أُخْتِي فِي كِتَابِ اللَّهِ فَلاَ تُكَذِّبِينِي عِنْدَهُ " . وَسَاقَ الْحَدِيثَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَى هَذَا الْخَبَرَ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Abu Hurayrah (may Allah be well pleased with him) narrates that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "Hadrat Ibrahim (upon him be peace) never said anything contrary to the apparent except on three occasions: two were for the sake of Allah, the Exalted — his saying 'Indeed, I am unwell' and his saying 'Rather, this biggest one of them did it.' And (the third occasion was that) once he was travelling through the land of a tyrant king and halted at a place. The tyrant was informed that a man had stopped there with a very beautiful woman. He summoned Hadrat Ibrahim (upon him be peace) and asked him about her. He said: She is my sister. When he returned to (Hadrat Sarah, upon her be peace), he said: That man asked me about you, and I told him you are my sister. Today there is no Muslim on the face of the earth other than you and I, and you are my sister in the Book of Allah (by virtue of faith), so do not belie me before him." And the rest of the hadith was narrated. Abu Dawud (upon him be mercy) said: This report was narrated by Shu'ayb ibn Abi Hamzah from Abu al-Zinad from al-A'raj from Hadrat Abu Hurayrah from the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) similarly.
الترجمة الأردية
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کبھی کوئی خلافِ ظاہر بات نہیں کہی سوائے تین مواقع کے: دو اللہ تعالیٰ کی ذات کی خاطر تھیں — ان کا یہ فرمانا ﴿اِنِّیۡ سَقِیۡمٌ﴾ (میں بیمار ہوں) اور ان کا یہ فرمانا ﴿بَلۡ فَعَلَهٗ کَبِیۡرُهُمۡ هٰذَا﴾ (بلکہ ان کے اس بڑے نے یہ کیا ہے)۔ اور (تیسرا موقع یہ ہے کہ) ایک بار آپ علیہ السلام ایک ظالم بادشاہ کی سرزمین سے گزر رہے تھے تو ایک جگہ قیام فرمایا۔ اس ظالم بادشاہ کو خبر دی گئی کہ یہاں ایک شخص ٹھہرا ہے اور اس کے ساتھ ایک بہت خوبصورت عورت ہے۔ بادشاہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بلوایا اور اس عورت کے بارے میں پوچھا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: یہ میری بہن ہے۔ پھر جب (حضرت سارہ علیہا السلام کے پاس) واپس تشریف لائے تو فرمایا: اس (بادشاہ) نے مجھ سے تمہارے بارے میں پوچھا تو میں نے بتایا کہ تم میری بہن ہو۔ آج روئے زمین پر میرے اور تمہارے سوا کوئی مسلمان نہیں ہے اور تم اللہ کی کتاب میں (ایمان کی بنا پر) میری بہن ہو، لہٰذا اس کے سامنے مجھے مت جھٹلانا۔ اور آگے حدیث بیان فرمائی۔ حضرت ابوداؤد فرماتے ہیں: اس خبر کو شعیب بن ابی حمزہ نے ابوالزناد سے، اعرج سے، حضرت ابوہریرہ سے، نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
