العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، - قَالَ أَبُو دَاوُدَ أَبُو عَبْدِ الرَّحِيمِ خَالِدُ بْنُ أَبِي يَزِيدَ خَالُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ رَوَى عَنْهُ، حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ - عَنْ جَهْمِ بْنِ الْجَارُودِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَهْدَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ نَجِيبًا فَأُعْطِيَ بِهَا ثَلاَثَمِائَةِ دِينَارٍ فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَهْدَيْتُ نَجِيبًا فَأُعْطِيتُ بِهَا ثَلاَثَمِائَةِ دِينَارٍ أَفَأَبِيعُهَا وَأَشْتَرِي بِثَمَنِهَا بُدْنًا قَالَ " لاَ انْحَرْهَا إِيَّاهَا " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا لأَنَّهُ كَانَ أَشْعَرَهَا .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Salim ibn Abdullah narrated from his father (Hadrat Abdullah ibn Umar, may Allah be well pleased with them both) that Hadrat Umar ibn al-Khattab (may Allah be well pleased with him) had designated a fine she-camel as a sacrificial offering, and he was offered three hundred dinars for it. Hadrat Umar (may Allah be well pleased with him) came to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and submitted: 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! I designated a fine she-camel as a sacrificial offering, and I have been offered three hundred dinars for it. Shall I sell it and buy sacrificial camels with the price?' The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'No, sacrifice that very one.' Abu Dawud (upon him be mercy) said: This was because he had already marked it.
الترجمة الأردية
حضرت سالم بن عبداللہ اپنے والد (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما) سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک عمدہ اونٹنی ہدی (قربانی) کے لیے مقرر فرمائی، تو (کسی نے) اس کے بدلے تین سو دینار پیش کیے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے ایک عمدہ اونٹنی ہدی کے لیے مقرر کی ہے اور اس کے بدلے تین سو دینار پیش کیے جا رہے ہیں، کیا میں اسے بیچ کر اس کی قیمت سے (عام) قربانی کے اونٹ خرید لوں؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نہیں! اسی کو نحر کرو۔ حضرت ابوداؤد فرماتے ہیں: یہ اس لیے تھا کہ انہوں نے اس پر اِشعار (نشان) کر دیا تھا۔
