العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، - وَهَذَا حَدِيثُهُ - قَالاَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، - رضى الله عنه - يَقُولُ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا أَنْ نَتَصَدَّقَ فَوَافَقَ ذَلِكَ مَالاً عِنْدِي فَقُلْتُ الْيَوْمَ أَسْبِقُ أَبَا بَكْرٍ إِنْ سَبَقْتُهُ يَوْمًا فَجِئْتُ بِنِصْفِ مَالِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا أَبْقَيْتَ لأَهْلِكَ " . قُلْتُ مِثْلَهُ . قَالَ وَأَتَى أَبُو بَكْرٍ - رضى الله عنه - بِكُلِّ مَا عِنْدَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا أَبْقَيْتَ لأَهْلِكَ " . قَالَ أَبْقَيْتُ لَهُمُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ . قُلْتُ لاَ أُسَابِقُكَ إِلَى شَىْءٍ أَبَدًا .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Aslam narrates that he heard Hadrat Umar ibn al-Khattab (may Allah be well pleased with him) saying: One day the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) commanded us to give sadaqah. It so happened that I had wealth at that time. I thought to myself: If ever I can surpass Hadrat Abu Bakr al-Siddiq (may Allah be well pleased with him), today is that day. So I brought half of my wealth. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) inquired: What have you left for your family? I submitted: The same amount. He said: Then Hadrat Abu Bakr al-Siddiq (may Allah be well pleased with him) came with all that he had. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) inquired of him: What have you left for your family? He submitted: I have left Allah and His Messenger for them. I then said (to myself): I shall never be able to surpass you in anything.
الترجمة الأردية
حضرت اسلم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے سنا: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں صدقہ کا حکم فرمایا، اتفاق سے اس وقت میرے پاس مال موجود تھا، میں نے (دل میں) کہا: اگر کسی دن میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے آگے بڑھ سکتا ہوں تو آج کا دن ہے۔ چنانچہ میں اپنا آدھا مال لے کر حاضر ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا ہے؟ میں نے عرض کیا: اتنا ہی (یعنی آدھا مال)۔ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنا سارا مال لے کر حاضر ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا: اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا ہے؟ عرض کیا: ان کے لیے اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑ کر آیا ہوں۔ تب میں نے (دل میں) کہا: میں آپ سے کبھی بھی کسی معاملے میں آگے نہیں بڑھ سکوں گا۔
